ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنہ
حضور اقدس صلی اللہ
تعالٰی علیہ وسلم کی نسبت مبارکہ کی وجہ سے ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنہ کا بھی
بہت ہی بلند رتبہ ہے ان کی شان میں قرآن کی بہت سی آیات نازل ہوئیں جن میں ان کی عظمتوں
کا ذکر و شان کا بیان ہے۔ چنانچہ اللہ عزوجل نے قرآن مجید میں ارشاد فرمایا کہ
یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَیْتُنَّ (احزاب آیت:٣٢)
ترجمہ: اے نبی کی
بیو یو! تم اور عورتوں کی طرح نہیں ہو اگر اللہ سے ڈرو۔
دوسری آیت میں یہ
ارشاد فرمایا کہ :
وَاَزْوَاجُةٌ أُمَّهتُهُمْ
(احزاب آیت:٦)
اور اس (نبی) کی بیویاں
ان (مومنین) کی مائیں ہیں۔
یہ پوری امت کا متفقہ رائے ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات دو لحاظ سے حقیقی ماؤں کی طرح ہیں۔ ایک یہ کہ کسی کے لیے ان سے ہمیشہ کے لیے شادی کرنا جائز نہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ ان کی تعظیم و تکریم ہر امت کے لیے اسی طرح ضروری ہے جس طرح حقیقی ماں کی ہوتی ہے، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر، لیکن نظر اور خلوت کے معاملے میں ازواج مطہرات رضی ا للہ تعالی عنہا کا حکم حقیقی ماں کی طرح نہیں ہے۔
کیونکہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ
وَ اِذَا سَاَلْتُمُوْهُنَّ مَتَاعًا فَسْــٴَـلُوْهُنَّ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍؕ (احزاب آیت ٥٣)
ترجمہ: جب نبی کی
بیویوں سے تم لوگ کوئی چیز مانگو تو پردے کے پیچھے سے مانگو۔
مسلمان اپنی حقیقی
ماں کو تو دیکھ بھی سکتا ہے اور تنہائی میں بیٹھ کر اس سے بات چیت بھی کر سکتا ہے مگر
حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی مقدس بیویوں سے ہر مسلمان کے لئے پردہ فرض ہے اور
تنہائی میں انکے پاس اٹھنا بیٹھنا حرام ہے ۔
اسی طرح حقیقی ماں
کے ماں باپ ،لڑکوں کے نانی نانا اور حقیقی ماں کے بھائی بہن لڑکوں کے ماموں اور خالہ
ہوا کرتے ہیں، مگر ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنہا کے ماں باپ امت کے نانی نانا اور
ازواج مطہرات رضی اللہ تعالٰی عنہ کے بھائی بہن امت کے ماموں خالہ نہیں ہوا کرتے ۔
یہ حضور صلی اللّٰہ
علیہ وآلہ وسلم کی ان تمام ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنہ کےلئے ہے جن سے حضور صلی
اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے نکاح فرمایا۔چاہے حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم سے پہلے
ان کا انتقال ہوا ہو یا حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد انہوں نے وفات پائی ہو۔ یہ
سب کی سب امت کی مائیں ہیں اور ہر امتی کے لئے اس کی حقیقی ماں سے بڑھ کر قابل تعظیم
و واجب الاحترام ہیں۔
ازواج مطہرات رضی
اللہ تعالی عنہ کی تعداد اور ان کے نکاحوں کی ترتیب کے بارے میں مؤرخین کا قدرے اختلاف
ہے ،مگر گیارہ امہات المومنین رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں کسی کا بھی اختلاف نہیں۔
ان میں سے حضرت خدیجہ اور حضرت زینب بنت خزیمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کا تو حضور صلی
اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے سامنے ہی انتقال ہو گیا تھا مگر نو بیویاں حضور صلی اللہ
تعالٰی علیہ وسلم کی وفات اقدس کے وقت موجود تھیں ۔
اُمت کی ان گیارہ ماؤں میں سے چھ خاندان قریش کے اونچے گھرانوں کی چشم و چراغ تھیں۔
جن کے اسماء مبارکہ یہ ہیں:
۱) خدیجہ بنت خویلد
(۲)
عائشہ بنت ابو بکر صدیق
(۳)
حصہ بنت عمر فاروق
(۴)
ام حبیبہ بنت ابوسفیان
(۵) ام سلمہ بنت ابوامیه
(۶) سودہ بنت زمعہ رضی الله عنہ
اور چار ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنما خاندان قریش سے نہیں تھیں بلکہ عرب کے دوسرے قبائل سے تعلق رکھتی تھیں ۔
وہ یہ ہیں:
(۱)
زینب بنت جحش
(۲) میمونہ بنت حارث
(۳) زینب بنت خزیمہ "ام المساکین"
(۴)
جویریہ بنت حارث
(۵) صفیہ بنت حیں
یہ عربی النسل نہیں تھیں بلکہ خاندان بنی اسرائیل کی ایک شریف النسب رئیس زادی تھیں۔
اس بات میں بھی کسی
مؤرخ کا اختلاف نہیں ہے کہ سب سے پہلے حضور صلی للہ تعلی علیہ وسلم نے حضرت خدیجہ رضی
اللہ تعالی عنہا سے نکاح فرمایا اور جب تک وہ زندہ رہیں آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم
نے کسی دوسری عورت سے نکاح نہیں فرمایا ۔
ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنہن کے مکانات
مسجد نبوی کے پاس
ہی آپ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم نے ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنہما کے لئے
حجرے بھی بنوائے ۔ اس وقت حضرت بی بی سودہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا نکاح
میں تھیں اس لئے دو ہی مکان بنوائے ۔ جب دوسری ازواج مطہرات آتی گئیں تو دوسرے مکانات
بنتے گئے۔ یہ مکانات بھی بہت ہی سادگی کے ساتھ بنائے گئے تھے۔ دس دس ہاتھ لمبے، چھ
چھ، سات سات، ہاتھ چوڑے کچی اینٹوں کی دیواریں، کھجور کی پتیوں کی چھت وہ بھی اپنی
نیچی کہ آدمی کھڑا ہو کر چھت کو چھو لیتا، دروازوں میں کو اڑ (یعنی دروازہ وغیرہ) بھی
نہ تھے۔ کمبل یا ٹاٹ کے پردے پڑے رہتے تھے ۔
(طبقات ابن سعد و غیره)
یہ ہے ہمارے پیارے
نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کی خوبصورت ترین زندگی جو کہ سادگی میں گزری
اور بہترین شوہر ہونے کا حق ادا کیا۔اپنی امت کو سمجھا نے کے لئے۔ازواجِ سے وفا کی
۔
دُنیا کی تمام آسائشیں
آپ صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کے قدموں میں حاضر ہو جاتی اگر ایک بار بھی اللّٰہ
تعالیٰ سے دعا کرتے. لیکن اپنی دعائیں امت کی بخشش کے لئے وقف کر دیں۔اور ایک ہم
ہیں کہ امت ہونے کا حق بھی ادا نہیں کر پا رہے۔اللّٰہ تعالیٰ ہمارے حال پر رحم
فرمائے ۔۔۔۔۔آمین
جاری ہے ۔۔۔اگلے آرٹیکل
کا انتظارِ فرمائیں ۔

0 تبصرے